اہل البیت نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے العوامیہ کے حالیہ واقعات کے بارے میں آل سعود کے حکمرانوں کے موقف کی مذمت کرتے ہوئے اس علاقے کے بحران کے کسی بیرونی ملک سے تعلق کے حوالے سے آل سعود کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا: آل سعود کی حکومت اس علاقے کے فرقہ وارانہ اور تشہیری و ابلاغی حملوں کی ذمہ دار ہے۔ آیت اللہ شیخ نمر نے جزیرة العرب کے شیعہ مفکرین، راہنماؤں اور علماء کو خبردار کیا کہ حکومت ان سب کو تشہیری سازشوں میں الجھانا چاہتی ہے۔انھوں نے کہا: جو شخص مظلوم کی مذمت کرے اور ظالم کے سامنے خاموشی اختیار کرے وہ ظالم کے ظلم میں شریک ہے اور جو شخص حقیقت بیان کرنے کی جرأت نہیں رکھتا اس س ے لئے خاموشی ترجیح رکھتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ العوامیہ میں آل سعود کی فورسز نے بحران کھڑا کیا ہے اور اس علاقے کے عوام کے خلاف جبر و تشدد کی روش اپنائی ہے۔انھوں نے کہا: سرکاری فورسز عوام کو مسلسل گرفتار کرتی ہیںان پر گاڑیاں چڑھادیتی ہیںموٹر سائیکل سوار نوجوانوں پر اندھادھند گولیاں چلادیتی ہیںبڑے بوڑھوں کو اغوا کرکے یرغمال بنا دیتی ہیں تا کہ ان کے بچوں پر دباؤ ڈالا جاسکے اور انہیں احتجاج کرنے سے روکا جاسکے انھوں نے کہا کہ اس قسم کے اقدامات عوام کے غیظ و غضب کا باعث بنے ہوئے ہیں اور انھوں نے احتجاج کا راستہ اپنایا ہے اور یہی چیزیں علاقے میں بحران کا سبب ہیں۔انھوں نے کہا: سعودی فورسز نے حسن آل زاید کو گرفتار کیا اور حراستی مرکز میں ان کی طبیعت بگڑ گئی چنانچہ انہیں حراستی مرکز سے آئی سی یو منتقل کرنا پڑا اور اگر معمر افراد کا یہ سلسلہ جاری نہ ہوتا تو موجودہ بحران رونما نہ ہوتا۔شہریوں پر فائرنگ، دسیوں افراد کو زخمی کرنا، لوگوں کے گھروں کو نقصان پہنچانا اور عوام کو خوفزدہ کرنا دیگر سعودی غیر انسانی اقدامات تھے جن میں آیت اللہ نمر نے تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ حالیہ ایام میں عوامی عمارتوں اور گھروں کو پہنچنے والے نقصانات سے بخوبی ثابت ہوتا ہے کہ آل سعود کی فورسز نے وسیع سطح پر گولیاں چلائی ہیں اور آل سعود کا یہ دعوی نامعقول ہے کہ موٹر سائیکل سواروں نے گولی چلائی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ غیرجانبدار ذرائع کے مطابق جو سعودی فورسز کے بعض اہلکار گولی لگنے سے زخمی ہوئے ہیں ان کو اپنےساتھیوں کے ہاتھوں زخمی ہوئے ہیں اور انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اپنے رفقائے کار کی گولیوں سے زخمی ہوئے ہیں کیونکہ انہیں فوجی چھاؤنی کے اندر ہی گولیاں لگی ہیں۔انھوں العوامیہ کی مسجد امام حسین علیہ السلام میں اجتماع جمعہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ایران کے انقلاب اسلامی سے قبل بھی العوامیہ کے عوام نے سنہ 1399 ہجری کے روز عاشورا جارح سعودی فورسز کے خلاف قیام کیا تھا اور اپنی حیثیت کا دفاع کیا تو کیا اس وقت بھی ہمارا قیام کسی بیرونی ملک سے وابستہ تھا؟ شیخ نمر نے کہا: ہم گذشتہ ایک صدی سے خوف و ہراس کی فضا میں جی رہے ہیں، میں جب سے پیدا ہوا ہوں ایک لمحے کے لئے بھی امن و سکون محسوس نہیں کرسکا ہوں، ہم ہمیشہ ملزم ہیں، سعودی سیکورٹی والے ہر وقت ہمارا تعاقب کررہے ہیں، کسی وقت بھی گرفتار ہوسکتے ہیں، کسی وقت بھی قید کئے جاسکتے ہیں اور جیل میں ڈالے جاسکتے ہیں الشرقیہ کے عوام کو ان مسائل کا سامنا ہے وہ پرامن زندگی کے بنیادی حق سے محروم ہیں۔انھوں نے کہا: میں جیل میں تھا تو سعودی افسر نے مجھ سے کہا: الشرقیہ کے تمام شیعوں کو مرنا چاہئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110